دوائیں مہنگی۔۔۔ موت سستی !!

چند روز قبل وزارت صحت نے ملٹی نیشنل اور مقامی دوا ساز اداروں کو قیمتوں میں بیس سے سو فیصد اضافے کی منظوری دے دی جس کے تحت پہلے مرحلے میں 350 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ بقیہ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ جلد متوقع ہے۔حد تو یہ ہے کہ کھانسی کے شربت کی قیمت میں سو فیصد اضافہ، سر درد کی گولی کے پیکٹ کی قیمت میں اایک سو تیس روپے کا اضافہ جبکہ ذیابیطس اور اینٹی بائیوٹک کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔ اس عوام دشمن فیصلے پر کچھ سیاسی جماعتوں نے نیم دلانہ احتجاج کیا اور پھر خاموشی اختیار کرلی یوں غریب عوام کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ 
وزارت صحت جسے نہ تو دواؤں کی کوالٹی کی کوئی فکر ہوتی ہے اور نہ ان کی مارکیٹ میں عدم دستیابی کی کوئی خبر ہوتی ہے اور نہ ہی یہ معلوم کرنے کی زحمت کرتی ہے کہ کتنی جعلی ادویات اور زائد معیاد کی ادویات کھلے عام فروخت ہو رہی ہے ، اسے بس عوام کے بجائے ادویہ ساز کمپنیوں کے مفادات کا خیال رہتا ہے۔ سستی اور غیر معیاری ہربل ادویات کے لیبل کی آڑ میں کیا کیا بک رہا ہے انہیں یہ جاننے کی کیا ضرورت ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں مرنا تو غریب عوام کو ہی ہے، ان کے نمائندوں کو تو مفت ادویات اور بیرون ملک علاج کی سہولت حاصل ہے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ عوام ایک تو مہنگی ادویات خریدیں اور اس پر یہ گارنٹی بھی نہیں کہ یہ دوا اصلی بھی ہے یا نہیں۔ ہر تھوڑی مدت بعد یہ خبر سننے میں آتی ہے کہ نقلی انجکشن یاغیرمعیاری ادویات سے کوئی مریض انتقال کر گیا جس کی ذمہ داری ڈاکٹر سے لے کر انتظامیہ اور ادویات بنانے والے ، کوئی بھی قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔ وطن عزیز میں ادویات پہلے ہی غریب عوام کی پہنچ سے دور تھی۔۔۔ دماغ کے ٹیومر کا علاج سر درد کی گولی سے کرنے والے غریب مزدور کی پہنچ سے یہ گولی بھی اب دور ہوتی جا رہی ہے۔۔۔ ٹی بی کا علاج کھانسی کے شربت میں ڈھونڈنے والوں کے لیئے ، یہ دوا مہنگی کر کے موت کوسستا کردیا گیا ہے۔۔۔پہلے سسک سسک کر مرتے تھے اب ایڑیاں رگڑ کے مرو۔۔۔۔۔ کچھ سستا ہوا یا نہیں۔۔۔ موت تو سستی ہو رہی ہ
ے۔

No comments:

Post a Comment