برطانیہ میں غربت کے باعث خواتین نے اپنی زلفیں بیچنا شروع کردیں

برطانیہ میں مہنگائی، بے روزگاری اور قرضوں کی ادائیگی کے باعث خواتین نے اپنے بال فروخت کرنے شروع کر دیئے ہیں اور بالخصوص دوشیزائوں میں اپنی زلفیں فروخت کرنے کا رحجان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جن کی زلفوں کا مارکیٹ ریٹ ایک سے ایک سو پچاس آسٹریلین پائونڈ ہے۔ معیشت کے اعتبار سے مستحکم ملک برطانیہ کی عورتوں میں اپنے سر کے بال فروخت کرنے کا ایک نیا اور غیر معمولی رحجان سامنے آیا۔ یہ رحجان کسی خاص مقابلے کا شوق کا مظہر نہیں بلکہ برطانیہ جیسی ایک بڑی اور مستحکم معیشت میں تیزی سے بڑھتی بے روزگاری اور مہنگائی کا نتیجہ ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق برطانوی عورتیں اپنے ذمہ واجب الاداء قرضوں کی ادائیگی کے لیے سر کے بال اتروا کر انہیں فروخت کرتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی معروف فیشن ڈیزائنر کیٹی برائز المعروف جورڈان اور امریکی گلوکارہ بریٹنی اسپیرز کی تقلید کرتے ہوئے اپنے بال اس لیے لمبے نہیں کرنا چاہتیں کہ انہیں بھی کوئی اداکاری کا شوق ہے بلکہ وہ انہیں لمبا کر کے مارکیٹ میں فروخت کرنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں بیچ کر اپنے ذمہ واجب الاداء قرض کو لوٹا سکیں۔ رپورٹ کے مطابق بالوں کی بیس انچ لمبی میڈیوں کے عوض انہیں ایک سو پچاس آسٹریلوی پاؤنڈز مل جاتے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں عورتیں مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں ایسا کرنے پرمجبور ہیں۔ لندن میں قدرتی بالوں کے ایک بیوپاری گرائم وائک کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے بال فروخت کرنے کی خواہش مند دسیوں خواتین نے ان سے رابطے کیے ہیں جو اب تک کے اس رحجان میں نہایت غیر معمولی نوعیت کے رابطے ہیں۔ بیشتر خواتین ٹیلیفون کے ذریعے اپنے بالوں کی اضافی قیمت لگوانے کے لیے بھی کال کرتی ہیں کیونکہ وہ مشکل معاشی صورت حال میں اپنے بال زیادہ سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا چاہتی ہیں اور بالخصوص دو شیزائوں میں یہ رحجان تیزی سے فروغ پا رہا ہے

No comments:

Post a Comment